29 ستمبر 2011 - 20:30

قومی سلامتی کے امور میں افغان صدرکےمشیر رنگین دادفرسپنتا نےپاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کودہشتگردگروہوں کی حمایت اورافغان شخصیتوں کےقتل میں ملوث ہونےکاالزام لگایاہے۔

ابنا: اسپنتانےبی بی سی کوانٹرویودیتےہوئےسی آئی پرالزام لگایاکہ وہ دہشتگردی کی سسٹیمیٹک مدد کررہاہےاوراسے اپنی خارجہ پالیسی میں ہتھیکنڈےکےطورپراستعمال کرتاہے۔انھوں نےکہاکہ افغانستان میں امن قائم کرنےاورتشدد کےخاتمےکےلئےامن مذاکرات طالبان کےبجائےآئی ایس آئی اورپاکستان کےفوجی حکام سےکئےجائيں ۔رنگین داد فراسپنتا نےکہاکہ افغان صدر نےمسلح مخالفین کےساتھ مصالحتی پروگرام پرنظرثانی کرلی ہےاوراس کےبعد سےایسےافراد سےمذاکرات کاسلسلہ بندکرنےکافیصلہ کرلیاہےجن کےاندراس کی صلاحیت ہی موجود نہيں ہے۔پاکستان کےخلاف اسپنتاکےبیانات گذشتہ مہینوں میں کسی اعلی افغان عہدیدارکاسخت ترین بیان ہے۔افغانستان کےسابق صدربرہان الدین ربانی کےقتل کےبعدسے امن مذاکرات کی افادیت کےبارےمیں ماہرین ، عوام حتی بعض افغان حکام کےدرمیان شک وشبہات بڑھنےلگےہيں۔افغانستان میں قومی آشتی منصوبےکےناقدین ،سن دوہزاردس میں افغان صدرحامدکرزئی کےحکم پرمرحوم ربانی کی سرپرستی میں اعلی امن کونسل کےقیام کےبعد سےہی طالبان اوردوسرےتمام حکومت مخالف گروہوں کوتشویق دلانےکی کوششوں کےسود مند ہونےکےبارےمیں شکوک وشبہات کااظہارکیاجاتارہاہے۔اس وقت جب افغانستان میں قیام امن کی اعلی کونسل کی جانب سےامن کی دعوت کاجواب اس ادارےکےسربراہ کےقتل کی صورت میں سامنےآیاہے، امن منصوبےکےمخالفین کاموقف مضبوطہ ہواہے۔حتی حامدکرزئی نےبدہ کےدن بعض افغان بزرگوں اورجہادی شخصیتوں سےملاقات میں قومی آشتی کےپروگرام میں تبدیلی کاعندیہ دیا۔ماہرین کاخیال ہےکہ پاکستان کےخلاف افغان حکام کےالزامات کاعمل اس ملک کی ایک دیرینہ روایت ہےکہ جب بھی افغانستان میں کوئی منفی واقعہ رونماہوتاہے تو اس کی نسبت پاکستان کی جانب دےدی جاتی ہے۔یہ ایسےعالم میں ہےکہ پاکستان پیپلزپارٹی افغانستان میں بدامنی اورتشددکےتسلسل کےنتائج کوروکنےکےلئے دوہزارآٹھ میں اقتدارمیں آنےکےبعد سےہی کابل کےساتھ تعلقات میں کشدگی دورکرنےکی پالیسی اختیارکرتےہوئےافغانستان میں امن کےعمل میں مددکرنےکاپابند ہونےپرتاکیدکرتی رہی ہے۔............

/169